گلبرگہ،6؍مئی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)گلبرگہ ضلع پنچایت گلبرگہ نے اپنے جمعہ کے دن منعقد ہوئے اجلاس میں سال 2017-18کے لئے1,210.73کروڑروپیوں کا بجٹ منظور کیا ۔ اس میں سے تعلقہ پنچایتوں 811.42کروڑ روپئے الاٹ کئے گئے ہیں ۔ جب کہ ضلع پنچایت کے لئے 370.60کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں ۔ گرام پنچایتوں کے لئے سال 2017-18کے بجٹ میں 28.70کروڑ روپئے رکھے گئے ہیں ۔ اجلاس کے موقع پر ضلع پنچایت رکن شیو راج پاتل نے الزام عائد کیا کہ عہدہ داران فنڈس کے استعمال میں بے قاعدگیاں کررہے ہیں ۔ ایماندار عہدہ داران کو ہراسان کیا جارہا ہے۔ ایک اور رکن ہرشانند گتہ دارنے اس موقع پر مطالبہ کیا کہ پرائیمری ہیلتھ سنٹر اور کمیونٹی ہیلتھ سنٹرس میں خالی پڑی جائیدادوں کو جلد از جلد پر کیا جائے ۔ ضلع پنچایت چیف ایکزیکیوٹیو آفیسر ہیپشیبا رانی کورلاپتی نے کہا کہ دیہی اور شہری صحت کے مراکز میں آئیندہ مہینہ سے بائیو میٹرک حاضری کا طریقہ شروع کیا جائیگا۔صحت کے مراکز میں سی سی ٹی کیمروں کی تنصیب کے لئے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ ضلع پنچایت رکن کوڑلا نے اس موقع پر الزام عائد کیا کہ ضلع پنچایت کے مرد ارکان ، خواتین ارکانکو بات کرنے کا موقع نہیں دیتے۔انھوں نے کہا کہ وہ گزشتہ تین گھنٹوں سے اظہار خیال کی کوشش کرہی ہیں لیکن انھیں اپنی زبان کھولنے کا موقع ہی نہیں مل رہا ہے۔ مرد ارکان جو پہلی صفوں میں براجمان ہوتے ہیں وہ خود ہی بولتے رہتے ہیں ، نہ وہ اپنے سوالات کی بوچھاڑ کو ختم کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی بحث ختم کرتے ہیں ۔ اس موقع پر رکن ضلع پنچایت مسٹر جئے بھیم نے مطالبہ کیاہے کہ ضلع پنچایت کیخاتون ارکان کے لئے اجلاس کے دوران ایک گھنتہ مختص کیا جائے ۔واضح رہے کہ پنچایت راج نظام میں خواتین کے لئے پچاس فی صد تحفظات فراہم کئے گئے ہیں ۔ خود گلبرگہ ضلع پنچایت کے جملہ 47ارکان میں 24خواتین ہیں باقی مرد ہیں ۔ یہ اتفاق ہے کہ صدر ، نائب صدر کے علاوہ اس وقت ضلع پنچایت گلبرگہ کی چیف ایکزیکیوٹیو آفیسر بھی خاتون ہی ہیں ۔ ضلع پنچایت گلبرگہ کی چیف ایکزیکیوٹیو آفیسر محترمہ ہیپشیبا رانی کورلاپتی نے کہا ہے کہ آئیندہ سے ضلع پنچایت گلبرگہ کے اجلاس میں خواتین ارکان کے لئے اجلاس کے ابتداء میں ہی ایک گھنٹہ مختص کردیا جائیگا تاکہ وہ آسانی کے ساتھ اپنے مسائل پیش کرسکیں اور بحث میں حصہ لے سکیں ۔